نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، نَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَامْرَأَتُهُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَلَمَّا بَعَثَ الْحَكَمَيْنِ ، قَالَ : " رُوَيْدَكُمَا حَتَّى أُعْلِمَكُمَا مَاذَا عَلَيْكُمَا ، هَلْ تَدْرِيَانِ مَا عَلَيْكُمَا ؟ إِنَّكُمَا إِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تَجْمَعَا جَمَعْتُمَا ، وَإِنْ رَأَيْتُمَا أَنْ تُفَرِّقَا فَرَّقْتُمَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْمَرْأَةِ ، وَقَالَ : أَرَضِيتِ بِمَا حَكَمَا ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ قَدْ رَضِيتُ بِكِتَابِ اللَّهِ عَلَيَّ وَلِيَّ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الرَّجُلِ ، فَقَالَ : قَدْ رَضِيتَ بِمَا حَكَمَا ، قَالَ : لا وَلَكِنِّي أَرْضَى أَنْ يَجْمَعَا ، وَلا أَرْضَى أَنْ يُفَرِّقَا ، فَقَالَ لَهُ : كَذَبْتَ وَاللَّهِ لا تَبْرَحُ حَتَّى تَرْضَى بِمِثْلِ الَّذِي رَضِيَتْ بِهِ " .عبیدہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص اور ایک عورت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دو لوگوں کو ثالث مقرر کیا، تو فرمایا: ”ابھی ٹھہرو، میں تمہیں یہ بتا دوں کہ تم پر کیا لازم ہے، کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ تم پر کیا بات لازم ہے؟ تم پر یہ لازم ہے کہ اگر تم دونوں یہ مناسب سمجھو کہ یہ دونوں میاں بیوی اکٹھے رہیں، تو تم ان کے اکٹھے رہنے کا فیصلہ دو، اگر تم یہ مناسب سمجھو کہ ان دونوں میں علیحدگی کروا دی جائے، تو تم ان میں علیحدگی کروا دینا۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”یہ دونوں جو فیصلہ کریں گے، تم اس پر راضی ہو گی؟“ اس عورت نے جواب دیا: ”جی ہاں، مجھ پر جو عائد ہوتا ہے اور مجھے جو ملے گا، میں اس کے بارے میں اللہ کی کتاب کے فیصلے پر راضی ہوں۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مرد کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”یہ دونوں ثالث جو فیصلہ کریں گے، تم اس پر راضی ہو گے؟“ اس نے جواب دیا: ”نہیں، اگر یہ دونوں اکٹھے رکھنے کا فیصلہ کریں گے، تو میں راضی ہوں، اور اگر یہ علیحدگی کا فیصلہ کریں گے، تو میں راضی نہیں ہوں گا۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”تم نے غلط کہا، اللہ کی قسم! تمہیں بھی اسی طرح راضی ہونا پڑے گا، جس طرح یہ عورت اس پر راضی ہے۔“