حدیث نمبر: 3777
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، نَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، نَا هَمَّامٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ " اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ فَأَعْتَقَتْهَا وَاشْتَرَطُوا الْوَلاءَ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ الْوَلاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ ، وَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَجَعَلَ عَلَيْهَا عِدَّةَ الْحُرَّةِ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : جَوَّدَ حَبَّانُ فِي قَوْلِهِ : عِدَّةُ الْحُرَّةِ ، لأَنَّ عَفَّانَ بْنَ مُسْلِمٍ ، وَعَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ رَوَيَاهُ ، فَقَالا : وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ ، وَلَمْ يَذْكُرَا : عِدَّةَ الْحُرَّةِ.
محمد محی الدین

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر اسے آزاد کر دیا اور اس کی ولاء کی شرط رکھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا: ”ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا، تو اس نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دی اور بریرہ رضی اللہ عنہا (کی عدت) آزاد عورت کی عدت (جتنی) مقرر کی۔ بعض راویوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عدت گزارنے کی ہدایت کی، ان راویوں نے ”آزاد عورت کی عدت“ کے الفاظ نقل نہیں کیے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3777
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5280، 5281، 5282، 5283، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4270، 4273،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 5419، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5937، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2231، 2232، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1156،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2075، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2140، 3770، 3771، 3772، 3773، 3774، 3777، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1869،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17877، 17878، 29724، 37441»