نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، نَا الْوَاقِدِيُّ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا جَدِّي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ : وَنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا حِينَ دَخَلَ بِهَا : " لَيْسَ بِكِ هَوَانٌ عَلَى أَهْلِكِ إِنْ شِئْتِ أَقَمْتُ مَعَكِ ثَلاثًا خَالِصَةً لَكِ ، وَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ ثُمَّ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي ، فَقَالَتْ تُقِيمُ مَعِي ثَلاثًا خَالِصَةً " . فَأَخَذَ مَالِكٌ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، " بِسَبْعٍ لِلْبِكْرِ ، وَبِثَلاثٍ لِلثَّيِّبِ ".یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے: عبدالملک بن ابوبکر اپنے والد کے حوالے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب ان کی رخصتی ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے شوہر کے نزدیک کم حیثیت کی مالک نہیں ہو، اگر تم چاہو، تو میں تمہارے ساتھ تین دن قیام کرتا ہوں، جو صرف تمہارے لیے ہوں گے (دوسری ازواج کو اپنی باری کے حساب سے ایک، ایک دن ملے گا)، اور اگر تم چاہو، تو میں تمہارے ساتھ سات دن رہوں، لیکن پھر اپنی تمام بیویوں (میں سے ہر ایک کے ساتھ) سات، سات دن رہوں گا۔“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”آپ میرے ساتھ تین دن رہیں۔“ امام مالک اور ابن ابی ذئب نے اس سے یہ حکم اخذ کیا ہے: کنواری کے ساتھ سات دن رہا جائے گا اور ثیبہ کے ساتھ تین دن رہا جائے گا۔