حدیث نمبر: 3726
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ سُئِلَ " عَنِ الْمَرْأَةِ وَابْنَتِهَا مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ ، هَلْ تُوطَأُ إِحْدَاهُمَا بَعْدَ الأُخْرَى ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي لا أُحِبُّ أَنْ أُجِيزَهَا جَمِيعًا وَنَهَاهُ " .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ دریافت کیا گیا: اگر کوئی ماں اور بیٹی کسی شخص کی ملکیت میں آ جاتی ہیں، تو کیا ان میں سے ایک کے بعد دوسری سے صحبت کی جا سکتی ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں یہ پسند نہیں کروں گا کہ تم ان دونوں کے ساتھ صحبت کرو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (سائل کو ایسا کرنے سے) منع کر دیا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3726
تخریج حدیث «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1067، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1733، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14044، 14045، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3726، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1736، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 12725، 12726، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16499»