حدیث نمبر: 3725
نَا نَا أَبُو الْقَاسِمِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُرْشِدٍ الْبَزَّارُ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ سُئِلَ " عَنِ الأُخْتَيْنِ مِمَّا مَلَكَتِ الْيَمِينِ ، فَقَالَ : لا آمُرُكَ وَلا أَنْهَاكَ أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ ، فَخَرَجَ السَّائِلُ فَلَقِيَ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ مَعْمَرٌ : أَحْسَبُهُ قَالَ : عَلِيٌّ ، فَقَالَ : مَا سَأَلْتَ عَنْهُ عُثْمَانَ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا سَأَلَهُ وَبِمَا أَفْتَاهُ ، فَقَالَ لَهُ : " لَكِنِّي أَنْهَاكَ وَلَوْ كَانَ لِي عَلَيْكَ سَبِيلٌ ثُمَّ فَعَلْتَ لَجَعَلْتُكَ نَكَالا ".
محمد محی الدین

قبیصہ بن ذوئب بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ایسی دو بہنوں کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو کسی کی ملکیت میں ہوں، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں ہدایت بھی نہیں کروں گا اور تمہیں منع بھی نہیں کروں گا، کیونکہ ایک آیت انہیں حلال قرار دیتی ہے اور ایک آیت انہیں حرام قرار دیتی ہے۔“ وہ سائل وہاں سے باہر نکلا، تو اس کی ملاقات ایک صحابی سے ہوئی۔ معمر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: میرا خیال ہے وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے دریافت کیا: ”تم نے سیدنا عثمان سے کس چیز کے بارے میں سوال کیا تھا؟“ اس شخص نے اپنے سوال کے بارے میں بتایا اور ان کے جواب کے بارے میں بھی بتایا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”میں تمہیں منع کروں گا، اگر میرا تم پر کوئی (سرکاری تسلط) ہو اور پھر تم اس کا ارتکاب کرو، تو میں تمہیں سزا دوں گا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3725
تخریج حدیث «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1068، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14042، 14043،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3725،وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16508، 16512، 16519»