نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُوسَى بْنِ عِيسَى الْقَارِيُّ ، أنا قَعْنَبُ بْنُ مُحْرِزٍ أَبُو عَمْرٍو ، نَا الْوَاقِدِيُّ ، نَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ ، يَقُولُ : " حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ لاعَنَ بَيْنَ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلانِيِّ وَامْرَأَتِهِ ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ وَأَنْكَرَ حَمْلَهَا الَّذِي فِي بَطْنِهَا ، وَقَالَ : هُوَ لابْنِ السَّحْمَاءِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَاتِ امْرَأَتَكَ فَقَدْ نزل الْقُرْآنُ فِيكُمَا ، فَلاعَنَ بَيْنَهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدَ الْمِنْبَرِ عَلَى خَمْلٍ " ،.سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویمر عجلانی اور اس کی اہلیہ کے درمیان لعان کروایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تبوک سے واپس تشریف لائے، تو عویمر نے اس عورت کے پیٹ میں موجود حمل (کا اپنی اولاد ہونے) کا انکار کر دیا اور یہ بولا: ”یہ ابن سحماء کی اولاد ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی بیوی کو لے کر آؤ، تم دونوں کے بارے میں قرآن کا حکم نازل ہو چکا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کے بعد منبر کے قریب اس حمل کے بارے میں ان دونوں سے لعان کروایا۔