حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَغَيْرُهُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : " حَضَرْتُ الْمُتَلاعِنَيْنِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَلَّقَهَا ثَلاثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ مِمَّا صَنَعَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَّةٌ ، فَمَضَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمُتَلاعِنَيْنِ ، يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ، ثُمَّ لا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا " .سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لعان کرنے والے (میاں بیوی) کے واقعہ میں موجود تھا، اس مرد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اس عورت کو تین طلاقیں دے دیں، تو نبی نے ان کو نافذ قرار دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جو کچھ بھی کیا جائے، تو وہ سنت ہوتا ہے، جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر انکار نہ کریں۔ اس کے بعد لعان کرنے والوں کے درمیان یہی سنت رائج ہوئی کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کر دی جاتی تھی اور پھر وہ دونوں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔