نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، ثنا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ الْمُلاعَنَةِ وَعَنِ السُّنَّةِ فِيهَا ، عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَرَأَيْتَ رَجُلا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا أَيَقْتُلُهَا فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ بِهَا ؟ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي شَأْنِهِمَا مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلاعِنَيْنِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ قَضَى اللَّهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ ، فَتَلاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِيهِمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلاعِنَيْنِ ، وَكَانَتْ حَامِلا فَأَنْكَرَهُ ، فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ ، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ مِنْهَا " .سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک انصاری شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی فرد کو پاتا ہے، اگر وہ اس عورت کو قتل کر دیتا ہے، تو آپ لوگ اسے قتل کر دیں گے، ایسے شخص کو اس عورت کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں حکم نازل کیا، جو لعان کرنے والوں کے بارے میں قرآن میں مذکور ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ دے دیا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ان دونوں میاں بیوی نے مسجد میں لعان کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی وہاں موجود تھا (راوی کہتے ہیں) اس کے بعد اسی میاں بیوی کے بارے میں یہ طریقہ رائج ہوا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کر دی جاتی تھی۔ راوی کہتے ہیں: وہ عورت حاملہ تھی، مرد نے اس کے حمل کا انکار کیا، تو اس کے بعد اس عورت کے بیٹے کو اس کی ماں کی نسبت سے بلایا جاتا تھا، اس کے بعد یہ طریقہ رائج ہوا کہ ایسی عورت اپنے اس بچے کی وارث بنتی تھی، اور وہ بچہ اس عورت کا وارث بنتا تھا، جو اس نے بیٹے کی وراثت کے طور پر مقرر کیا تھا۔