حدیث نمبر: 3669
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، نَا أَبُو الْيَمَانِ ، أنا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا أَبُو أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ ، نَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ ، نَا جَدِّي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وَنا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ الْحَافِظُ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، نَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 3 ؟ ، قَالَتْ : أَيِ ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا وَيُرِيدُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِأَدْنَى مِنْ سُنَّةِ صَدَاقِهَا ، فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ ، إِلا أَنْ تُقْسِطُوا لَهُنَّ فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ ، وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : ثُمَّ اسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : فَبَيَّنَ اللَّهُ لَهُمْ فِي هَذِهِ الآيَةِ أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا كَانَتْ ذَاتَ مَالٍ وَجَمَالٍ رَغِبُوا فِي نِكَاحِهَا وَلَمْ يُلْحِقُوهَا بِسُنَّتِهَا فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ ، فَإِذَا كَانَتْ مَرْغُوبًا عَنْهَا فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ تَرَكُوهَا وَالْتَمَسُوا غَيْرَهَا مِنَ النِّسَاءِ ، يَتْرُكُونَهَا حِينَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَنْكِحُوهَا إِذَا رَغِبُوا فِيهَا ، إِلا أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا وَيُعْطُوهَا حَقَّهَا الأَوْفَى مِنَ الصَّدَاقِ " ، مَعْنَاهُمْ مُتَقَارِبٌ.
محمد محی الدین

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا: ”اور اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے، تو تمہیں جو خواتین پسند ہوں، دو، یا تین یا چار، ان کے ساتھ شادی کر لو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو کسی شخص کی زیر پرورش ہوتی تھی۔ وہ لڑکی اس کے مال میں اس کی شریک ہوتی تھی۔ تو اس شخص کو اس لڑکی کے مال اور خوبصورتی میں دلچسپی ہوتی تھی، تو ولی اس لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا تاکہ اسے مہر کے طور پر انصاف کے مطابق ادائیگی نہ کرنا پڑے۔ وہ (انصاف کے مطابق یعنی عام رواج سے کم) مہر ادا کرتا تھا، تو لوگوں کو اس بات سے منع کر دیا گیا کہ وہ اس طرح ان لڑکیوں کے ساتھ شادی کریں یا پھر یہ کہ وہ انصاف سے (یعنی عام رواج کے مطابق) انہیں مہر ادا کریں۔ ان لوگوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ دوسری خواتین کے ساتھ شادی کر لیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: پھر لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کیے، تو اللہ نے یہ آیت نازل کی: ”لوگ تم سے خواتین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ تم فرماؤ، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ تمہیں یہ حکم دیتا ہے اور یتیم لڑکیوں کے بارے میں کتاب کے جو احکام تلاوت کیے گئے ہیں، جن یتیم لڑکیوں کو تم وہ چیز ادا نہیں کرتے جو ان کے لیے مقرر کی گئی ہے اور تم اس کے ساتھ نکاح کرنے میں دلچسپی رکھتے ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے یہ حکم بیان کیا ہے، اگر کوئی خوبصورت ہو اور مالدار بھی ہو، تو یہ لوگ اس کے ساتھ نکاح میں دلچسپی لیتے ہیں، لیکن عام رواج کے مطابق اسے مکمل مہر ادا نہیں کرتے۔ لیکن اگر خوبصورتی اور مال کے اعتبار سے لڑکی میں کمی ہو، تو یہ اس کے ساتھ شادی نہیں کرتے، بلکہ دوسری خواتین تلاش کرتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: جب ان لوگوں کو ایسی لڑکیوں میں دلچسپی محسوس نہیں ہوتی اور وہ انہیں ترک کر دیتے ہیں، تو اب انہیں اس بات کا بھی حق نہیں ہو گا کہ جب انہیں اس طرح کی لڑکیوں میں دلچسپی محسوس ہو، تو وہ ان کے ساتھ شادی کر لیں۔ البتہ اگر مہر کے حوالے سے وہ ان کے ساتھ انصاف سے کام لیں اور پوری ادائیگی کریں (تو حکم مختلف ہو گا)۔ ان کا مضمون باہمی طور پر قریب ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3669
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2494، 2763، 4573، 4574، 4600، 5064، 5092، 5098، 5128، 5131، 5140، 6965، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 3018، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4073، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3348، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5488، 11024، 11059، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2068، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3667، 3668، 3669، 3670، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17686»