سنن الدارقطني
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى باب: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى عَزَّ وَجَلَّ : " وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى سورة النساء آية 3 ، قَالَتْ : يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَتُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ وَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا فَيُعْطِيهَا مثل مَا يُعْطَى غَيْرُهُ ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا لَهُنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الآيَةِ الأُخْرَى : وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 رَغْبَةُ أَحَدِكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ الَّتِي تَكُونُ فِي حِجْرِهِ ، تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا فِي يَتَامَى النِّسَاءِ إِلا بِالْقِسْطِ ، مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ " .عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا: ”اور اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے، تو تمہیں جو خواتین پسند ہیں، دو یا تین یا چار، ان کے ساتھ شادی کر لو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو کسی شخص کی زیر پرورش ہوتی تھی۔ وہ لڑکی اس کے مال میں اس کی شریک ہوتی تھی۔ تو اس شخص کو اس لڑکی کے مال اور خوبصورتی میں دلچسپی ہوتی تھی، تو ولی اس لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا تاکہ اسے مہر کے طور پر انصاف کے مطابق ادائیگی نہ کرنا پڑے۔ وہ (انصاف کے مطابق یعنی عام رواج سے کم) مہر ادا کرتا تھا، تو لوگوں کو اس بات سے منع کر دیا گیا کہ وہ اس طرح ان لڑکیوں کے ساتھ شادی کریں یا پھر یہ کہ وہ انصاف سے (یعنی عام رواج کے مطابق) انہیں مہر ادا کریں۔ ان لوگوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ دوسری خواتین کے ساتھ شادی کر لیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اور تم ان کے ساتھ شادی کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔“ یعنی کوئی شخص ایسی یتیم لڑکی کے ساتھ شادی کرنے میں دلچسپی نہیں لیتا جو اس کے زیر پرورش ہوتی ہے، جس کا مال اور خوبصورتی کم ہوتے ہیں۔ تو لوگوں کو ان یتیم لڑکیوں کے ساتھ شادی کرنے سے منع کر دیا گیا جن کے مال اور خوبصورتی میں لوگوں کو دلچسپی ہوتی ہے (کیونکہ دوسری صورت میں) ان کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔ البتہ اگر وہ انصاف کے مطابق انہیں مہر ادا کریں، تو (حکم مختلف ہو گا)۔