سنن الدارقطني
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى باب: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ سَيَّارٍ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : " وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ سورة النساء آية 3 ، قَالَتْ : يَا ابْنَ أَخِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا تُشْرِكُهُ فِي مَالِهِ ، وَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا ، فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا مَا يُعْطِيهَا مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ ، فَنُهُوا عَنْ أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ أَوْ يَبْلُغُوا لَهُنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ فِي الصَّدَاقِ ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ ، قَالَ عُرْوَةُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 ، وَذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَابِ الآيَةَ الأُولَى ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3 ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى فِي الآيَةِ الأُخْرَى وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 ، قَالَتْ : فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَنْ رَغِبُوا فِي مَالِهِ وَجَمَالِهِ مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ إِذَا كُنَّ قَلِيلاتِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ " ، تَابَعَهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ . وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا: ”اور اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے، تو تمہیں جو خواتین پسند ہوں، دو یا تین یا چار، ان کے ساتھ شادی کر لو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو کسی شخص کی زیر پرورش ہوتی تھی۔ وہ لڑکی اس کے مال میں اس کی شریک ہوتی تھی۔ تو اس شخص کو اس لڑکی کے مال اور خوبصورتی میں دلچسپی ہوتی تھی، تو ولی اس لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا تاکہ اسے مہر کے طور پر انصاف کے مطابق ادائیگی نہ کرنا پڑے۔ وہ (انصاف کے مطابق یعنی عام رواج سے کم) مہر ادا کرتا تھا، تو لوگوں کو اس بات سے منع کر دیا گیا کہ وہ اس طرح ان لڑکیوں کے ساتھ شادی کریں یا پھر یہ کہ وہ انصاف سے (یعنی عام رواج کے مطابق) انہیں مہر ادا کریں۔ ان لوگوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ دوسری خواتین کے ساتھ شادی کر لیں جو انہیں پسند آتی ہیں۔ عروہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بتایا: اس آیت کے بعد لوگوں نے اس بارے میں مختلف سوالات کیے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”لوگ تم سے خواتین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ تم فرماؤ، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے اور یتیم لڑکیوں کے بارے میں کتاب کے جو احکام تلاوت کیے گئے ہیں، جن یتیم لڑکیوں کو تم وہ چیز ادا نہیں کرتے جو ان کے لیے مقرر کی گئی ہے اور تم ان کے ساتھ نکاح کرنے میں دلچسپی رکھتے ہو۔“ اللہ نے یہاں جو یہ بات ذکر کی ہے کہ کتاب اللہ کی جو آیات تمہارے سامنے تلاوت کی گئی ہیں، اس سے مراد پہلے والی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اور اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے، تو جو خواتین تمہیں اچھی لگتی ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ”وترغبون أن تنكحوهن۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: لوگوں کو اس بات سے منع کر دیا گیا کہ جن یتیم لڑکیوں کے مال اور خوبصورتی میں دلچسپی ہوتی ہے، وہ ان کے ساتھ اسی وقت شادی کر سکتے ہیں جب وہ انصاف کے مطابق انہیں ادائیگی کریں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر ایسی لڑکیاں تھوڑے مال یا کم خوبصورتی کی مالک ہوتیں، تو ان سرپرستوں نے ان میں دلچسپی نہیں لینی تھی۔