حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ كَانَتْ عِنْدَهُ زَيْنَبُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بْنِ سَلُولٍ ، وَكَانَ أَصْدَقَهَا حَدِيقَةً فَكَرِهَتْهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ الَّتِي أَعْطَاكِ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ وَزِيَادَةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَّا الزِّيَادَةُ فَلا وَلَكِنْ حَدِيقَتُهُ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَأَخَذَهَا لَهُ وَخَلا سَبِيلَهَا فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ ، قَالَ : قَدْ قَبِلْتُ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، سَمِعَهُ أَبُو الزُّبَيْرِ مِنْ غَيْرِ وَاحِدٍ.ابوزبیر بیان کرتے ہیں: سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی شادی زینب بنت عبداللہ سے ہوئی، سیدنا ثابت نے اس خاتون کو مہر کے طور پر ایک باغ دیا تھا، وہ خاتون انہیں پسند نہیں کرتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس نے جو باغ تمہیں دیا تھا، کیا تم اسے واپس کرنے کے لیے تیار ہو؟“ اس خاتون نے عرض کی: ”جی ہاں، (میں اس کے ساتھ) مزید بھی دے سکتی ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مزید ادائیگی کی ضرورت نہیں، صرف اس باغ کو واپس کر دو۔“ اس خاتون نے عرض کی: ”ٹھیک ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کو باغ واپس ملنے اور عورت کو طلاق ہونے کا فیصلہ دیا، جب اس کی اطلاع سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو ملی، تو انہوں نے کہا: ”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو تسلیم کرتا ہوں۔“