نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، نَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " مَا أَعِيبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلا دِينٍ وَلَكِنْ أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الإِسْلامِ ، فَقَالَ : أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : يَا ثَابِتُ ، اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ ، وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً " .سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں ان کے اخلاق یا دین کے حوالے سے ان سے ناراض نہیں ہوں، لیکن میں مسلمان ہونے کے بعد (شوہر کی) ناشکری کو پسند نہیں کرتی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم اس کا باغ اسے واپس کرنے کے لیے تیار ہو؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ثابت! تم اپنا باغ لے لو اور اسے طلاق دے دو۔“