قُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ بْنِ مَنِيعٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ : حَدَّثَكُمْ أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ زُرَارَةَ الْحَدَثِيُّ ، نَا مَسْرُوحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : " كَانَتْ أُخْتِي تَحْتَ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ تَزَوَّجَهَا عَلَى حَدِيقَةٍ ، وَكَانَ بَيْنَهُمَا كَلامٌ فَارْتَفَعَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ وَيُطَلِّقُكِ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ وَأَزِيدُهُ ، قَالَ : رُدِّي عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ وَزِيدِيهِ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری بہن ایک انصاری کی اہلیہ تھی، اس انصاری نے ایک باغ (کی بطور مہر) ادائیگی کی شرط پر اس کے ساتھ شادی کی تھی، ان دونوں کے درمیان ناچاقی ہوئی، انہوں نے اپنا مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اس کا باغ واپس کر دو، یہ تمہیں طلاق دیتا ہے۔“ تو وہ عورت بولی: ”ٹھیک ہے، میں اسے مزید بھی دے سکتی ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کا باغ واپس کرو اور اسے مزید ادائیگی بھی کرو۔“