حدیث نمبر: 3618
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا أَبُو صَالِحٍ ، كَاتِبُ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ ؟ ، قَالُوا : بَلَى قَالَ : هُوَ الْمُحِلُّ، ثُمَّ قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْمُحِلَّ ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ " .محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں کرائے کے سانڈ کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ لوگوں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ حلالہ کرنے والا شخص ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص حلالہ کرے اور جس کے لیے حلالہ کیا گیا ہو، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔“