حدیث نمبر: 3613
نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ هَاشِمٍ السِّمْسَارُ ، نَا عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ ، نَا الأَوْزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " ارْأَ فِيَّ رَأْيَكَ ، فَقَالَ : مَنْ يَنْكِحُ هَذِهِ ؟ ، فَقَامَ رَجُلٌ عَلَيْهِ بُرْدَةٌ عَاقِدُهَا فِي عُنُقِهِ ، فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَلَكَ مَالٌ ؟ ، قَالَ : لا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : اجْلِسْ ، ثُمَّ جَاءَتْ مَرَّةً أُخْرَى ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ارْأَ فِيَّ رَأْيَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَنْكِحُ هَذِهِ ؟ ، فَقَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَلَكَ مَالٌ ؟ ، قَالَ : لا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : اجْلِسْ ، ثُمَّ جَاءَتِ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ارْأَ فِيَّ رَأْيَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَنْكِحُ هَذِهِ ؟ ، فَقَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَلَكَ مَالٌ ؟ ، قَالَ : لا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَهَلْ تَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَسُورَةَ الْمُفَصَّلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا عَلَى أَنْ تُقْرِئَهَا وَتُعَلِّمَهَا وَإِذَا رَزَقَكَ اللَّهُ تَعَالَى عَوَّضْتَهَا " ، فَتَزَوَّجَهَا الرَّجُلُ عَلَى ذَلِكَ ، تَفَرَّدَ بِهِ عُتْبَةُ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے بارے میں اپنی رائے (بیان کریں)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس کے ساتھ کون شادی کرے گا؟“ ایک صاحب کھڑے ہوئے، جنہوں نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی، جو انہوں نے اپنی گردن میں باندھی ہوئی تھی، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں (اس کے ساتھ شادی کروں گا)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم بیٹھ جاؤ۔“ پھر وہ خاتون دوبارہ آئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے بارے میں اپنی رائے (بیان کریں)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس کے ساتھ کون شادی کرے گا؟“ وہی صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہارے پاس مال ہے؟“ اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بیٹھ جاؤ۔“ پھر وہ خاتون دوبارہ آئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے بارے میں اپنی رائے (بیان کریں)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس کے ساتھ کون شادی کرے گا؟“ وہی صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہارے پاس مال ہے؟“ اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہیں قرآن (زبانی) آتا ہے؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں، سورة بقرہ اور منفصل سورتیں (زبانی یاد ہیں)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس شرط پر تمہاری شادی اس کے ساتھ کرتا ہوں کہ تم اسے قرآن پڑھنا سکھاؤ گے، اسے تعلیم دو گے، اور جب اللہ تعالیٰ تمہیں رزق عطا کرے گا، تو تم اس کا مہر اسے دے دو گے۔“ تو ان صاحب نے اس شرط پر اس خاتون کے ساتھ شادی کر لی۔ اس روایت کو نقل کرنے میں عتبہ بن سکن نامی راوی منفرد ہیں اور یہ متروک الحدیث ہیں۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3613
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14512، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3613»
«قال الدارقطني: تفرد به عتبة وهو متروك الحديث ، سنن الدارقطني: (4 / 366) برقم: (3613)»