حدیث نمبر: 3611
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا : نَا أَبُو الأَشْعَثِ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تُعْرِضُ نَفْسَهَا عَلَيْهِ فَخَفَضَ فِيهَا الْبَصَرَ وَرَفَعَهُ فَلَمْ يَرُدَّهَا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ " زَوِّجْنِيهَا ، قَالَ : هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ ، قَالَ : مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ ، قَالَ : وَلا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ ؟ ، قَالَ : وَلا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ ، وَلَكِنْ أَشُقُّ بُرْدَتِي هَذِهِ فَأُعْطِيهَا النِّصْفَ وَآخُذُ النِّصْفَ ، قَالَ : لا ، قَالَ : هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " ،.
محمد محی الدین

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، ایک خاتون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور خود کو نکاح کے لیے پیش کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر جھکائی، پھر اٹھائی، لیکن مثبت ردعمل نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میری شادی اس کے ساتھ کر دیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس (مہر کے طور پر ادا کرنے کے لیے) کوئی چیز ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”لوہے کی کوئی انگوٹھی بھی نہیں؟“ انہوں نے عرض کی: ”لوہے کی کوئی انگوٹھی بھی نہیں، البتہ اپنی چادر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اسے دے دیتا ہوں اور آدھی اپنے پاس رکھ لوں گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہیں قرآن (زبانی) آتا ہے؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، تمہیں جو قرآن آتا ہے، اس (کی تعلیم دینے کے مہر ہونے) کے عوض میں، میں نے تمہاری شادی اس کے ساتھ کر دی۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3611
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2310، 5029، 5030، 5087، 5121، 5126، 5132، 5135، 5141، 5149، 5150، 5871، 7417، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1425، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1044 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4093، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) 1، 3202، برقم: 3282، برقم: 3341، برقم: 3361، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2111، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1114، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2247، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1889، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3611، 3612، 3614، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23261، 23296، 23314، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 957، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16621، 37319»