نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالا : نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " ، لَفْظُ ابْنِ سِنَانٍ ، وَهَذَا خِلافُ لَفْظِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى ، عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ ، قَالَ الشَّيْخُ : وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ قَوْلُهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ " ، إِنَّمَا أَرَادَ بِهِ الْبِكْرَ الْيَتِيمَةَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، لأَنَّا قَدْ ذَكَرْنَا فِي رِوَايَةِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ وَمَنْ تَابَعَهُ فِيمَا تَقَدَّمَ مِمَّنْ رَوَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ " ، وَأَمَّا قَوْلُ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ : " وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا " ، فَإِنَّا لا نَعْلَمُ أَحَدًا وَافَقَ ابْنَ عُيَيْنَةَ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ ، وَلَعَلَّهُ ذَكَرَهُ مِنْ حِفْظِهِ فَسَبَقَ لِسَانُهُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى : " أَنَّ الْيَتِيمَةَ تُسْتَأْمَرُ ".سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثیبہ عورت اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری لڑکی سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی، اس کا اذن اس کی خاموشی ہو گی۔“ یہ الفاظ ابن سنان نامی راوی کے ہیں اور یہ دونوں اس روایت سے مختلف ہیں، جسے فضل بن موسیٰ نے ابن مہدی کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: ”یہاں اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ ’’کنواری لڑکی‘‘ سے مراد کنواری یتیم لڑکی ہو، ویسے اللہ بہتر جانتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم صالح بن کیسان اور اس کی متابعت میں منقول دیگر روایات میں یہ ذکر کر چکے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ’’یتیم لڑکی سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی۔‘‘“ ابن عیینہ نے زیاد بن سعد کے حوالے سے جو یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”کنواری لڑکی سے اس کا والد اجازت لے گا۔“ تو ہمارے علم کے مطابق کسی بھی راوی نے ان الفاظ کے بارے میں ابن عیینہ کی موافقت نہیں کی ہے، ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی یادداشت کے حوالے سے یہ روایت ذکر کی ہو اور ان کی زبان غلطی کر گئی ہو، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ ابوبردہ کے حوالے سے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے یہی روایت نقل کی گئی ہے: ”یتیم لڑکی سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی۔“