نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا أَبُو سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ ، وَصَمْتُهَا رِضَاهَا " ، كَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ صَالِحٍ وَالَّذِي قَبْلَهُ أَصَحُّ فِي الإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ ، لأَنَّ صَالِحًا لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَإِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْهُ ، اتَّفَقَ عَلَى ذَلِكَ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَسَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ صَالِحٍ ، سَمِعْتُ النَّيْسَابُورِيَّ ، يَقُولُ : الَّذِي عِنْدِي أَنَّ مَعْمَرًا أَخْطَأَ فِيهِ.سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی کو ثیبہ کے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہوتا، اور کنواری سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی، اس کی خاموشی اس کی رضا ہو گی۔“ معمر نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے، اس سے پہلے جو روایت گزر چکی ہے، وہ سند اور متن کے اعتبار سے زیادہ درست ہے، کیونکہ صالح نامی راوی نے اسے نافع بن جبیر سے نہیں سنا ہے، انہوں نے اسے عبداللہ بن فضل سے سنا ہے، اس بارے میں صالح سے نقل کرنے میں ابن اسحاق اور سعید بن سلمہ متفق ہیں۔ میں نے شیخ ابوبکر نیشاپوری کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میرے نزدیک اس بارے میں معمر نے غلطی کی ہے۔“