نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، نَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الأَيِّمُ أَوْلَى بِأَمْرِهَا ، وَالْيَتِيمَةُ تَسْتَأْمِرُهَا فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " ، أَنَّ تَابَعَهُ سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ . وَخَالَفَهُمَا مَعْمَرٌ فِي إِسْنَادِهِ فَأَسْقَطَ مِنْهُ رَجُلا ، وَخَالَفَهُمَا أَيْضًا فِي مَتْنِهِ فَأَتَى بِلَفْظٍ آخَرَ وَهِمَ فِيهِ ، لأَنَّ كُلِّ مَنْ رَوَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، وَكُلِّ مَنْ رَوَاهُ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ خَالَفُوا مَعْمَرًا ، وَاتِّفَاقُهُمْ عَلَى خِلافِهِ دَلِيلٌ عَلَى وَهْمِهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ) اپنے معاملے کی زیادہ حق دار ہے، اور کنواری لڑکی سے اجازت لی جائے گی، اس کا اذن اس کی خاموشی ہے۔“ سعید بن سلمہ نے صالح بن کیسان کے حوالے سے اس کی متابعت کی ہے۔ معمر نے اس کی سند میں ان دونوں سے مختلف بات بیان کی ہے، انہوں نے سند میں سے ایک شخص کا ذکر ساقط کر دیا ہے، اسی طرح معمر نے اس روایت کے متن میں بھی ان دونوں سے مختلف بات نقل کی ہے اور روایت کو دوسرے الفاظ میں نقل کیا ہے، تاہم اس میں انہیں وہم ہوا ہے، کیونکہ ہر وہ راوی، جس نے اسے عبداللہ بن فضل کے حوالے سے نقل کیا ہے، اور ہر وہ راوی، جس نے اسے عبداللہ بن فضل کے ساتھ نافع بن جبیر سے نقل کیا ہے، ان سب نے معمر سے مختلف روایت نقل کی ہے، اور ان سب راویوں کا معمر سے مختلف روایت کرنے پر اتفاق کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ معمر کو اس بارے میں وہم ہوا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔