حدیث نمبر: 3571
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ ، قَالا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، نَا رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ بِابْنَتِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هَذِهِ ابْنَتِي أَبَتْ أَنْ تَزَوَّجَ ، فَقَالَ : أَطِيعِي أَبَاكِ أَتَدْرِينَ مَا حَقَّ الزَّوْجُ عَلَى الزَّوْجَةِ ؟ لَوْ كَانَ بِأَنْفِهِ قُرْحَةٌ تَسِيلُ قَيْحًا وَصَدِيدًا لَحَسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ ، فَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ لا نَكَحْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُنْكِحُوهُنَّ إِلا بِإِذْنِهِنَّ " .
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی: ”میری بیٹی شادی کرنے سے انکار کر رہی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے باپ کا حکم مان لو، کیا تم جانتی ہو؟ شوہر کا بیوی پر حق کیا ہے؟ اگر شوہر کی ناک میں پھوڑا نکل آئے، جس میں سے پیپ اور مواد خارج ہوتا ہو اور عورت زبان کے ذریعے اس کو چاٹ لے، تو بھی وہ شوہر کا حق ادا نہیں کرے گی۔“ تو اس خاتون نے عرض کی: ”اس ذات کی قسم، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میں تو شادی نہیں کروں گی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان (لڑکیوں) کی شادی ان کی مرضی کے ساتھ کرو۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3571
تخریج حدیث «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4164، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2783، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5365، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14824، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3571، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17407»