ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ . ح وثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو خُرَاسَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّكَنِ ، قَالا : نَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَقَالَ أَبُو خُرَاسَانَ : إِنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا بِغَيْرِ إِذْنِهَا ، فَفَرَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ حَبَّانَ عَنْ أَيُّوبَ . وَتَابَعَهُ أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ عَنِ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَغَيْرُهُ يُرْسِلُهُ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَالصَّحِيحُ مُرْسَلٌ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک لڑکی کے والد نے اس کی شادی کر دی، اس لڑکی کو (یہ رشتہ) پسند نہیں تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو (نکاح برقرار رکھنے یا کالعدم کرنے) کا اختیار دیا۔ ابوخراسان نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے: ایک لڑکی نبی کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس بات کا تذکرہ کیا کہ اس کے والد نے اس کی اجازت کے بغیر اس کی شادی کر دی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دی۔ یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے عکرمہ کے حوالے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، جبکہ دیگر راویوں نے اسے عکرمہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور درست یہی ہے کہ یہ مرسل ہے۔