نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الرَّمَادِيُّ ، نَا أَبُو ظُفُرٍ عَبْدُ السَّلامِ بْنُ مُطَهَّرٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ تُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ تَلْقَهُ فَجَلَسَتْ تَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِهَذِهِ الْمَرْأَةِ إِلَيْكَ حَاجَةً ، قَالَ لَهَا : وَمَا حَاجَتُكِ ؟ ، قَالَتْ : " إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخٍ لَهُ لِيَرْفَعَ خَسِيسَتَهُ بِي وَلَمْ يَسْتَأْمِرْنِي ، فَهَلْ لِي فِي نَفْسِي أَمْرٌ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَتْ : مَا كُنْتُ لأَرُدَّ عَلَى أَبِي شَيْئًا صَنَعَهُ وَلَكِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ أَلَهُنَّ فِي أَنْفُسِهِنَّ أَمْرٌ أَمْ لا ؟ " ، هَذِهِ كُلُّهَا مَرَاسِيلُ ابْنُ بُرَيْدَةَ ، لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ شَيْئًا.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے، وہ عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں بیٹھ گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اس عورت کو آپ سے کوئی کام ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”تمہیں کیا کام ہے؟“ اس نے بتایا: ”میرے والد نے میری شادی اپنے بھتیجے کے ساتھ کر دی، تاکہ میری وجہ سے اس کی حیثیت بہتر ہو جائے، میرے والد نے اس بارے میں میری مرضی معلوم نہیں کی، تو کیا مجھے اپنی ذات کے بارے میں کوئی اختیار ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہاں۔“ اس عورت نے عرض کی: ”میرے والد نے جو کیا ہے، میں اسے مسترد نہیں کرنا چاہوں گی، البتہ میں یہ چاہتی ہوں کہ خواتین کو اس بات کا پتہ چل جائے کہ انہیں اپنی ذات کے بارے میں اختیار ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔“ شیخ فرماتے ہیں: یہ تمام روایات مراسیل ہیں، کیونکہ ابن بریدہ نامی راوی نے سیدہ عائشہ سے احادیث کا سماع نہیں کیا۔