نَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، نَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ ، نَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَتَاةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا . ح وَنا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي ، نَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، نَا عَوْنٌ يَعْنِي ابْنَ كَهْمَسٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ مِنْ خَسِيسَتِهِ وَإِنِّي كَرِهْتُ ذَلِكَ ، قَالَتِ : اقْعُدِي حَتَّى يَجِيءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاذْكُرِي ذَلِكَ لَهُ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِيهَا فَجَاءَ أَبُوهَا ، وَجَعَلَ الأَمْرَ إِلَيْهَا " . فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّ الأَمْرَ جُعِلَ إِلَيْهَا ، قَالَتْ : إِنِّي قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي ، إِنِّي إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ هَلْ لِلنِّسَاءِ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَمْ لا ؟ . قَالَ ابْنُ الْجُنَيْدِ : فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي وَلَكِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَعْلَمَ لِلنِّسَاءِ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَمْ لا .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک لڑکی ان کے پاس آئی (اس کے بعد روایت اگلی حدیث میں ہے)۔ عبداللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں: ایک لڑکی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بولی: ”میرے والد نے میری شادی اپنے بھتیجے کے ساتھ کر دی ہے، تاکہ میری وجہ سے اس کی کمتر حیثیت بہتر ہو جائے، مجھے یہ پسند نہیں ہے۔“ سیدہ عائشہ نے فرمایا: ”نبی کے تشریف لانے تک تم بیٹھی رہو، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معاملہ پیش کروں گی۔“ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو سیدہ عائشہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معاملہ پیش کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کے والد کو بلایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (نکاح کے برقرار رکھنے یا کالعدم کرنے) کا اختیار لڑکی کو دیا، جب اس لڑکی نے یہ دیکھا کہ اسے اختیار دیا گیا ہے، تو وہ بولی: ”میرے والد نے جو کیا، میں اسے برقرار رکھنا چاہتی ہوں، میں یہ چاہتی ہوں کہ مجھے اس بات کا پتہ چل جائے کہ کیا خواتین کو اس بارے میں اختیار ہے۔“ ابن جنید نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! انہوں نے جو کیا ہے، میں اسے برقرار رکھتی ہوں، میں یہ چاہتی ہوں کہ مجھے یہ پتہ چل جائے کہ خواتین کو اس بارے میں اختیار ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔“