حدیث نمبر: 3555
نَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ الضَّبِّيُّ ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ أَبِي وَنِعْمَ الأَبُ هُوَ زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ لِيَرْفَعَ مِنْ خَسِيسَتِهِ ، قَالَ : فَجَعَلَ الأَمْرَ إِلَيْهَا ، فَقَالَتْ : إِنِّي قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءَ ، أَنْ لَيْسَ إِلَى الآبَاءِ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ " .
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے والد، جو ایک بہترین باپ ہیں، انہوں نے میری شادی اپنے بھتیجے سے کر دی ہے، تاکہ میری وجہ سے اس کی کم حیثیت بہتر ہو جائے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو اختیار دیا (کہ وہ نکاح کو کالعدم کر سکتی ہے)، اس نے عرض کی: ”میرے والد نے جو کیا ہے، میں اسے برقرار رکھتی ہوں، میں یہ چاہتی ہوں کہ خواتین کو اس بات کا پتہ چل جائے کہ اس بارے میں باپ کو اختیار نہیں ہوتا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3555
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3271، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5369، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1874، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13790، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3555، 3556، 3557، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25683، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10302، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16230، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6842»
«قال الدارقطني: هذه كلها مراسيل ابن بريدة لم يسمع من عائشة شيئا ، سنن الدارقطني: (4 / 335) برقم: (3557)»