نَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، نَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا هُشَيْمٌ ، أنا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، يُقَالُ لَهَا : خَنْسَاءُ بِنْتُ خِذَامٍ زَوَّجَهَا أَبُوهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ ، فَأَتَت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " الأَمْرُ إِلَيْكِ ، قَالَتْ : فَلا حَاجَةَ لِي فِيهِ ، فَرَدَّ نِكَاحَهَا ، فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَ ذَلِكَ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ، فَجَاءَتْ بِالسَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ " .ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: انصار کے خاندان بنو عمر و بن عوف سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون، جس کا نام خنساء بنت خذام تھا، ان کے والد نے ان کی شادی کر دی، وہ خاتون ثیبہ تھیں، انہوں نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کا حق تمہیں حاصل ہے۔“ اس نے عرض کی: ”میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔“ تو نبی نے اس کے نکاح کو کالعدم قرار دیا، اس کے بعد اس خاتون نے سیدنا ابولبابہ بن منذر کے ساتھ شادی کر لی، اور اس کے ہاں سیدنا ابولبابہ کے صاحبزادے سائب پیدا ہوئے۔