نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، نَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : زَوَّجَنِي خَالِي قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ بِنْتَ أَخِيهِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ، فَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ عَلَى أُمِّهَا فَأَرْغَبَهَا فِي الْمَالِ وَخَطَبَهَا إِلَيْهَا ، فَرُفِعَ شَأْنُهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ قُدَامَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " ابْنَةُ أَخِي وَأَنَا وَصِيُّ أَبِيهَا وَلَمْ أُقَصِّرْ بِهَا ، زَوَّجْتُهَا مَنْ قَدْ عَلِمْتُ فَضْلَهُ وَقَرَابَتَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهَا يَتِيمَةٌ وَالْيَتِيمَةُ أَوْلَى بِأَمْرِهَا ، فَنُزِعَتْ مِنِّي وَزَوَّجَهَا الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ " ، لَمْ يَسْمَعْهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ مِنْ نَافِعٍ ، وَإِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْهُ . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْهُ ، وَتَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میرے ماموں سیدنا قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کی شادی میرے ساتھ کر دی، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس لڑکی کی والدہ کے پاس تشریف لائے اور اسے زیادہ مال کی پیشکش کر کے اس لڑکی کے لیے نکاح کا پیغام دیا، یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، تو سیدنا قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ میری بھتیجی ہے، میں اس کے والد کا وصی ہوں، میں نے اس لڑکی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی، میں نے اس کی شادی اس شخص کے ساتھ کی، جس کی فضیلت اور (ہمارے ساتھ) رشتہ داری سے آپ بھی واقف ہیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ لڑکی ہے اور لڑکی اپنے معاملے میں زیادہ حق دار ہوتی ہے۔“ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:) پھر اس کا مجھ سے رشتہ توڑ دیا گیا اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے اس کے ساتھ شادی کر لی۔ شیخ فرماتے ہیں: محمد بن اسحاق نے اس روایت کو نافع سے نہیں سنا، انہوں نے اسے عمر بن حسین سے سنا ہے۔ ابراہیم بن سعد نے ان کے حوالے سے یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے، جبکہ محمد بن سلمہ نے محمد بن اسحاق کے حوالے سے عمر بن حسین سے منقول ہونے کے طور پر اس کی متابعت کی ہے۔