نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ الْمِصْرِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْفَرَحِ بْنِ سُلَيْمَانَ أَبُو عُتْبَةَ الْحِمْصِيُّ ، قَالا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ بِنْتَ خَالِهِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ، قَالَ : فَذَهَبَتْ أُمُّهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ ابْنَتِي تَكْرَهُ ذَلِكَ " فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفَارِقَهَا فَفَارَقَهَا ، وَقَالَ : لا تَنْكِحُوا الْيَتَامَى حَتَّى تَسْتَأْمِرُوهُنَّ ، فَإِذَا سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا ، فَتَزَوَّجَهَا بَعْدُ عَبْدُ اللَّهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ " ، وَرَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَصَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعٍ مُخْتَصَرًا ، مُرْسَلا . وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ نَافِعٍ ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْهُ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے: انہوں نے اپنے ماموں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کر لی، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اس لڑکی کی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: ”میری بیٹی اس رشتے کو ناپسند کرتی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس عورت سے علیحدگی اختیار کر لیں (یعنی طلاق دے دیں)، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”لڑکیوں کی شادی اس وقت تک نہ کرو، جب تک ان کی رائے معلوم نہ ہو، اگر وہ (جواب میں) خاموش رہیں، تو یہ ان کی اجازت (شمار) ہو گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: بعد میں سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے اس لڑکی کے ساتھ شادی کر لی۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ مختصر طور پر اور مرسل روایت کے طور پر نافع سے منقول ہے۔ ابن ابی وہب نامی راوی نے نافع سے اس کا سماع نہیں کیا ہے، انہوں نے عمر بن حسین کے حوالے سے نافع سے روایت کیا ہے۔