نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا رَوْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : " كَانَتْ لِي أُخْتٌ تَحْتَ رَجُلٍ فَطَلَّقَهَا ، ثُمَّ خَلا عَنْهَا حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ، ثُمَّ جَاءَ يَخْطُبُهَا ، فَحَمَى مَعْقِلٌ عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : خَلا عَنْهَا وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهَا فَحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ سورة البقرة آية 232 " .سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری بہن ایک شخص کی بیوی تھی۔ اس نے اسے طلاق دے دی۔ یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی۔ پھر اس شخص نے نکاح کا پیغام بھیجا، تو سیدنا معقل رضی اللہ عنہ کو اس بات پر غصہ آیا۔ انہوں نے فرمایا: اس نے اس لڑکی کو چھوڑ دیا تھا حالانکہ یہ اس سے رجوع کر سکتا تھا۔ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ اس لڑکی اور اس کے سابقہ شوہر کے درمیان رکاوٹ بن گئے، تو اللہ نے یہ آیت نازل کی: ”جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے، تو انہیں اس بات سے منع نہ کرو کہ وہ دوبارہ شادی کر لیں۔“