حدیث نمبر: 3522
نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي حَيَّةَ إِمْلاءً ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ صَدَاقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْوَاجَهُ ؟ ، فَقَالَتْ : كَانَ صَدَاقُهُ اثْنَيْ عَشَرَ أُوقِيَّةٍ وَنَشٍّ ، قَالَتْ : هَلْ تَدْرِي مَا النَّشُّ ؟ هُوَ نِصْفُ الأُوقِيَّةِ ، فَذَلِكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ " .محمد محی الدین
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کو کتنا مہر ادا کرتے تھے؟“ تو سیدہ عائشہ نے فرمایا: ”بارہ اوقیہ اور نش۔“ سیدہ عائشہ نے دریافت کیا: ”کیا تم جانتے ہو، نش سے کیا مراد ہے؟“ اس سے مراد نصف اوقیہ ہے اور (مہر کی مجموعی رقم) پانچ سو درہم بنتی ہے۔ امام دارقطنی نے آگے چل کر وہ روایات نقل کی ہیں، جن میں یہ مذکور ہے کہ دس درہم سے کم مہر نہیں ہو سکتا۔