حدیث نمبر: 3513
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ الْبَدَلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ تَنْزِلُ عَنِ امْرَأَتِكَ وَأَنْزِلُ لَكَ عَنِ امْرَأَتِي وَأَزِيدُكَ ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَلا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ سورة الأحزاب آية 52 ، قَالَ : فَدَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ ، فَدَخَلَ بِغَيْرِ إِذْنٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عُيَيْنَةُ ، فَأَيْنَ الاسْتِئْذَانُ ؟ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا اسْتَأْذَنْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ مُضَرَ مُنْذُ أَدْرَكْتُ ، قَالَ : مَنْ هَذِهِ الْحُمَيْرَا الَّتِي إِلَى جَنْبِكَ ؟ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذِهِ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : أَفَلا أنزل لَكَ عَنْ أَحْسَنِ الْخَلْقِ ؟ ، فَقَالَ : يَا عُيَيْنَةُ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ ذَلِكَ ، قَالَ : فَلَمَّا أَنْ خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هَذَا ؟ ، قَالَ : أَحْمَقُ مُطَاعٌ ، وَإِنَّهُ عَلَى مَا تَرَيْنَ لِسَيِّدِ قَوْمِهِ " .
محمد محی الدین

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں بدل یہ ہوتا تھا کہ کوئی شخص دوسرے سے کہتا، تم مجھے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرنے دو میں تمہیں اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرنے دوں گا اور میں تمہیں مزید فائدہ دوں گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «وَلَا أَنْ تَبَدَّلُوا بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ حُسْنُهُنَّ»۔ سیدنا عیینہ بن حصن فزاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں موجود تھے، عیینہ اجازت لیے بغیر اندر آگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے عیینہ! تم نے اجازت کیوں نہیں لی؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! جب سے میں بالغ ہوا میں نے مضر قبیلہ کے کسی فرد کے ہاں اندر داخل ہونے کی اجازت طلب نہیں کی، اس نے یہ بھی کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں موجود یہ خوبصورت خاتون کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عائشہ ہے، جو تمام اہل ایمان کی ماں ہے۔“ اس نے کہا: کیا میں اس کی جگہ تبدیل کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ خوبصورت عورت نہ دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عیینہ! اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو حرام قرار دیا ہے۔“ جب وہ شخص چلا گیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! یہ کون تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک احمق رہنما تھا، تم نے اس کی ذہنی حالت دیکھی ہے اس کے باوجود یہ اپنی قوم کا سردار ہے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب النكاح / حدیث: 3513
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3513، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 8761»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف جدا ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 88)»