سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3499
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، نَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ نَبِيَّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ ، جَلَدَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْحَدَّ ، إِلا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ " .محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوالقاسم، نبی التوبہ، صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اپنے زیر ملکیت (غلام یا کنیز) پر زنا کا جھوٹا الزام لگائے اور وہ (غلام یا کنیز) اس سے بری ہو، جو اس شخص نے الزام لگایا ہے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس الزام لگانے والے شخص کو حد جتنے کوڑے لگوائے گا، البتہ اگر وہ (غلام یا کنیز) واقعی مجرم ہوں (تو حکم مختلف ہے)۔“