حدیث نمبر: 3479
نَا نَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ ، قَالَتْ : " اسْتَبَّ رَجُلانِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا : مَا أُمِّي بِزَانِيَةٍ وَلا أَبِي بِزَانٍ ، فَشَاوَرَ عُمَرُ الْقَوْمَ ، فَقَالُوا : مَدَحَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ ، فَقَالَ : لَقَدْ كَانَ لَهُمَا مِنَ الْمَدْحِ غَيْرُ هَذَا ، فَضَرَبَهُ " .
محمد محی الدین

عمرہ بیان کرتی ہیں: دو آدمیوں کے درمیان گالی گلوچ ہو گئی، تو ان میں سے ایک نے کہا: ”میری ماں زانیہ نہیں تھی، میرا باپ بھی زانی نہیں تھا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا، تو انہوں نے کہا: ”اس شخص نے اپنے والد اور والدہ کی تعریف کی ہے (کہ وہ زانی نہیں تھے)۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تعریف کرنے کے لیے ان دونوں میں اور بھی خوبیاں تھیں۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو (کوڑے) لگوائے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3479
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1468، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17244، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3479، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 13725، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28965»
«قال سعد الشثري : صحيح ، أخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28965»