حدیث نمبر: 3471
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : أَبَقَ غُلامٌ لابْنِ عُمَرَ ، فَمَرَّ عَلَى غِلْمَةٍ لِعَائِشَةَ فَسَرَقَ مِنْهُمْ جِرَابًا فِيهِ تَمْرٌ ، وَرَكِبَ حِمَارًا لَهُمْ ، فَأُتِيَ بِهِ ابْنُ عُمَرَ ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ سَعِيدٌ : لا نَقْطَعُ آبِقًا ، وَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ عَائِشَةُ : " إِنَّمَا غِلْمَتِي غِلْمَتُكَ ، وَإِنَّمَا جَاعَ وَرَكِبَ الْحِمَارَ لِيَتَبَلَّغَ عَلَيْهِ ، فَلا تَقْطَعْهُ " ، فَقَطَعَهُ ابْنُ عُمَرَ .
محمد محی الدین

نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک غلام بھاگ گیا، اس کا گزر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کچھ غلاموں کے پاس ہوا، اس نے ان غلاموں کی ایک تھیلی چوری کر لی، جس میں کھجوریں موجود تھیں، پھر وہ ان غلاموں کے گدھے پر سوار ہوا اور بھاگ گیا، پھر اسے پکڑ کر سیدنا عبداللہ بن عمر کے پاس لایا گیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر نے اسے سعید بن العاص کے پاس بھیج دیا، جو ان دنوں مدینہ منورہ کے گورنر تھے، سعید نے کہا: ”میں مفرور غلام کا ہاتھ نہیں کاٹوں گا۔“ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے (ابن عمر رضی اللہ عنہما) کو پیغام بھیجا: ”میرے غلام بھی آپ کے غلام ہیں، وہ غلام بھوکا تھا (اس لیے اس نے کھجوروں کی تھیلی چوری کر لی)، وہ گدھے پر اس لیے سوار ہوا، تاکہ وہاں سے فرار ہو جائے، اس لیے آپ اس کا ہاتھ نہ کاٹیں۔“ لیکن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3471
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3471، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 18986»