سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا ابْنُ مَنِيعٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَيْرُوزَ ، نَا جَدِّي ، حَدَّثَنِي حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِيُّ ، قَالَ : شَهِدْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ : فَشَهِدَ عَلَيْهِ حُمْرَانُ وَرَجُلٌ آخَرُ ، فَشَهِدَ أَحَدُهُمَا أَنَّهُ رَآهُ يَشْرَبُ الْخَمْرَ ، وَشَهِدَ الآخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّؤُهَا ، فَقَالَ عُثْمَانُ : إِنَّهُ لَمْ يَتَقَيَّأْهَا حَتَّى شَرِبَهَا ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ : أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ ، فَقَالَ عَلِيُّ لِلْحَسَنِ : أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ ، فَقَالَ الْحَسَنُ : وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ : أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ ، فَأَخَذَ السَّوْطَ فَجَلَدَهُ ، وَعَلِيٌّ يَعُدُّ حَتَّى بَلَغَ أَرْبَعِينَ جَلْدَةً ، قَالَ : " أَمْسِكْ ، جَلْدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ " ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : أَحْسَبُهُ ، قَالَ : " وَأَبُو بَكْرٍ ، وَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِينَ ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ ، وَهَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ ".حصین بن منذر بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ان کے سامنے ولید بن عقبہ کو لایا گیا، حمران نے اور ایک دوسرے شخص نے ولید کے خلاف گواہی دی، ان میں سے ایک نے کہا: ”اس نے ولید کو شراب پیتے ہوئے دیکھا ہے۔“ اور دوسرے نے یہ کہا: ”اس نے ولید کو (شراب پینے کے بعد) قے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ قے اسی وقت کرے گا، جب اس نے شراب پی رکھی ہو گی۔“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ اس پر حد جاری کر دیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم اس پر حد جاری کرو۔“ تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ کام وہ کرے، جس کی یہ ذمہ داری ہے۔“ انہوں نے عبداللہ بن جعفر سے کہا: ”تم اس پر حد جاری کرو۔“ عبداللہ بن جعفر نے کوڑا پکڑا اور اسے کوڑے مارنے لگے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ گنتی کرتے رہے، جب چالیس کوڑے ہو گئے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اب رک جاؤ۔“ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (شراب پینے والے کو) چالیس کوڑے لگوائے تھے۔ عبدالعزیز نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگوائے تھے، ان میں سے ہر ایک سنت ہے (یعنی قابل عمل ہے)، البتہ میں اسے (چالیس کوڑوں کی سزا کو) پسند کرتا ہوں۔“