سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3469
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَدْ سَرَقَ حُلَّةً لَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " هَبْهُ لِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَهَلا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنَا بِهِ " .محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ ایک شخص کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جس نے ان کا حلہ چوری کیا تھا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا کا فیصلہ سنایا)، تو انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ (وہ حلہ میری طرف سے) اسے ہبہ شمار کریں (اور یہ سزا نہ دیں)۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اسے ہمارے پاس لانے سے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا؟“