سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3468
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا وَكِيعٌ ، نَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنِ الْفُرَافِصَةِ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ : مَرُّوا عَلَى الزُّبَيْرِ بِسَارِقٍ فَشَفَعَ لَهُ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، " تَشْفَعُ لِلسَّارِقِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ لا بَأْسَ بِهِ مَا لَمْ يُؤْتَ بِهِ الإِمَامُ ، فَإِذَا أُتِيَ بِهِ الإِمَامُ فَلا عَفَا اللَّهُ عَنْهُ إِنْ عَفَا عَنْهُ " .محمد محی الدین
فرافصہ حنفی بیان کرتے ہیں: کچھ لوگ ایک چور کو ساتھ لے کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑنے کے لیے کہا، تو ان لوگوں نے کہا: ”اے ابوعبداللہ! آپ ایک چور کی سفارش کر رہے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں ہے، جب تک معاملہ قاضی کے سامنے پیش نہ ہو جائے، جب یہ قاضی کے سامنے پیش ہو جائے گا، تو اللہ اسے معاف نہیں کرے گا، خواہ قاضی اسے معاف کر بھی دے۔“