سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا الْقَاضِي أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْفَرَسِيُّ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ النَّخَعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كَانَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ ، ثِيَابُهُ تَحْتَ رَأْسِهِ ، فَجَاءَ سَارِقٌ فَأَخَذَهَا ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقَرَّ السَّارِقُ ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطَعَ ، فَقَالَ صَفْوَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَيُقْطَعُ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ فِي ثَوْبِي ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَلا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْفَعُوا مَا لَمْ يَتَّصِلْ إِلَى الْوَالِي ، فَإِذَا أُوصِلَ إِلَى الْوَالِي فَعَفَا فَلا عَفَا اللَّهُ عَنْهُ ، ثُمَّ أَمَرَ بِقَطْعِهِ مِنَ الْمِفْصَلِ " .عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ مسجد میں سوئے ہوئے تھے، ان کی چادر ان کے سر کے نیچے تھی، ایک چور آیا، اس نے وہ چادر نکال لی، پھر اس چور کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، اس نے جرم کا اقرار کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، سیدنا صفوان نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا میرے کپڑے کی وجہ سے ایک عربی کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہیں سوچا؟“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تک مجرم کو معاف کرنے کی سفارش کرو، جب تک معاملہ حاکم یا قاضی تک نہیں پہنچتا، جب وہ حاکم تک پہنچ جائے اور حاکم اسے معاف کر دے، تو اللہ اس حاکم کو معاف نہیں کرے گا۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ جوڑ کے پاس سے کاٹنے کا حکم دیا۔