سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ . ح وَنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحُنَيْنِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ ، نَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : " كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي ثَمَنُهَا ثَلاثِينَ دِرْهَمًا ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاخْتَلَسَهَا مِنِّي ، فَأُخِذَ الرَّجُلُ فَأُتِيَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ بِهِ لِيُقْطَعَ ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : أَتَقْطَعُهُ مِنْ أَجْلِ ثَلاثِينَ دِرْهَمًا ، أَنَا أَبِيعُهُ وَأُنْسِئُهُ ثَمَنَهَا ، قَالَ : أَلا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ " .سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں اپنی چادر پر سویا ہوا تھا، اس چادر کی قیمت تیس درہم تھی، ایک شخص آیا، اس نے میرے نیچے سے اسے نکال لیا (اور چوری کرنے کی کوشش کی)، اسے پکڑ لیا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”کیا آپ تیس درہم کی وجہ سے اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، میں یہ اسے فروخت کرتا ہوں اور اس کی قیمت کا ادھار کر لیتا ہوں (یعنی وہ بعد میں وصول کروں گا)؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا؟“