سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ أَبُو سَهْلٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ الْوَزَّاعِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، نَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرَةَ مِنْ بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ صَنْعَاءَ يَسْبِقُ النَّاسَ كُلَّ سَنَةٍ ، فَلَمَّا قَدِمَ وَجَدَ مَعَ وَلِيدَتِهِ سَبْعَةَ رِجَالٍ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ، فَأَخَذُوهُ وَقَتَلُوهُ ثُمَّ أَلْقَوْهُ فِي بِئْرٍ ، فَجَاءَ الَّذِي مِنْ بَعْدِهِ فَسُئِلَ عَنْهُ فَأُخْبِرَ أَنَّهُ مَضَى بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ : فَذَهَبَ الرِّجَالُ إِلَى الْخَلاءِ فَرَأَى ذُبَابًا يَلِجُ فِي خَرَقَ الرَّحَى ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْهَا ، فَعَرَفَ أَنَّ فِيهَا لَحْمًا ، فَرَفَعَ الرَّحَى وَأَرْسَلَ إِلَى سَرِيَّةِ الرَّجُلِ ، فَأَخْبَرَتْهُ بِالْقَوْمِ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ : أَنِ اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ أَجْمَعِينَ ، وَاقْتُلْهَا مَعَهُمْ ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ أَهْلُ صَنْعَاءَ اشْتَرَكُوا فِي دَمِهِ قَتَلْتُهُمْ بِهِ " .عبیداللہ بن عمیرہ بیان کرتے ہیں: صنعاء کا رہنے والا ایک شخص تھا، جو ہر سال لوگوں سے پہلے (گھر واپس) آیا کرتا تھا، ایک دن وہ اپنے گھر واپس آیا، تو اس نے اپنی کنیز (یا بیوی) کے ساتھ سات آدمیوں کو شراب پیتے ہوئے پایا، ان ساتوں نے اسے پکڑ کر قتل کر کے ایک کنویں میں پھینک دیا، جب اس کے بعد والا شخص آیا اور اس نے پہلے والے شخص کے بارے میں دریافت کیا، تو ان لوگوں نے بتایا کہ وہ پہلے ہی جا چکا ہے، پھر وہ (بعد میں آنے والا) شخص قضائے حاجت کے لیے گیا، تو اس نے دیکھا کنویں کی چکی میں سے کچھ مکھیاں آ جا رہی ہیں، جس سے اسے اندازہ ہوا کہ اس میں گوشت موجود ہے، اس نے اس چکی کو اٹھایا اور (مقتول) شخص کے خاندان والوں کو بلوایا، انہیں اس بارے میں بتایا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے خط لکھا: ”ان سب افراد کی گردنیں اڑا دو اور ان کے ساتھ اس عورت کو بھی قتل کر دو، اگر صنعاء کے رہنے والے سب لوگ اس کے قتل میں شریک ہوتے، تو میں سب کو قتل کروا دیتا۔“