سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الْحَنَفِيُّ ، نَا أَبُو مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ إِذْ كَانَ عَامِلا عَلَى الْمَدِينَةِ أُتِيَ بِرَجُلٍ يَسْرِقُ الصِّبْيَانَ ثُمَّ يَخْرُجُ بِهِمْ فَيَبِيعَهُمْ فِي أَرْضٍ أُخْرَى ، فَاسْتَشَارَ مَرْوَانُ فِي أَمْرِهِ ، فَحَدَّثَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِرَجُلٍ يَسْرِقُ الصِّبْيَانَ ثُمَّ يَخْرُجُ بِهِمْ فَيَبِيعَهُمْ فِي أَرْضٍ أُخْرَى ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُطِعَتْ يَدُهُ ، فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالَّذِي يَسْرِقُ الصِّبْيَانَ فَقُطِعَتْ يَدُهُ " ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، وَهُوَ كَثِيرُ الْخَطَأِ ، عَلَى هِشَامٍ ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.عروہ بیان کرتے ہیں: جب مروان بن حکم مدینہ منورہ کا گورنر تھا، اس کے سامنے ایک ایسے شخص کو لایا گیا، جو بچے کو اٹھا کر لے جاتا تھا اور کسی دوسری جگہ پر انہیں فروخت کر دیتا تھا، اس شخص کے بارے میں مروان نے لوگوں سے مشورہ کیا، تو عروہ بن زبیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات بتائی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ایسے شخص کو لایا گیا، جو بچے کو اٹھا کر لے جاتا تھا اور انہیں دوسری جگہ فروخت کر دیتا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔ بچے چوری کرنے والے کے بارے میں مروان نے بھی یہی حکم دیا اور اس شخص کا ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا، عبداللہ بن محمد اس روایت کو ہشام سے نقل کرنے میں منفرد ہیں اور انہوں نے ہشام کے حوالے سے (روایات نقل کرنے میں) بہت غلطیاں کی ہیں، یہ منکر الحدیث ہیں۔