سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3459
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " فِي الْمَرْأَةِ تَرْتَدُّ ، قَالَ : تُسْتَحْيَا " ، ثُمَّ قَالَ أَبُو عَاصِمٍ : نَا أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا ، فَلَمْ أَكْتُبْهُ وَقُلْتُ : قَدْ حَدَّثَتْنَا بِهِ عَنْ سُفْيَانَ يَكْفِينَا . وَقَالَ أَبُو عَاصِمٍ : نَرَى أَنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ إِنَّمَا دَلَّسَهُ ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ فَكَتَبْتُهُمَا جَمِيعًا.محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرتد ہونے والی عورت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ”اسے زندہ رکھا جائے گا۔“ ابوعاصم فرماتے ہیں: امام ابوحنیفہ نے عاصم کے حوالے سے اس روایت کو نقل کیا ہے، لیکن میں نے اسے نوٹ نہیں کیا، میں نے کہا: یہ روایت سفیان کے حوالے سے ہمیں سنائی جا چکی ہے، وہی ہمارے لیے کافی ہے۔ ابوعاصم فرماتے ہیں: ہمارا یہ خیال ہے سفیان ثوری نے امام ابوحنیفہ سے اس کے مقتول ہونے میں تدلیس کی ہے، اس لیے میں نے ان دونوں کے حوالے سے اسے نوٹ کر لیا ہے۔