حدیث نمبر: 3447
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ ، وَكَانَ النَّضِيرُ أَشْرَفُ مِنْ قُرَيْظَةَ ، فَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلا مِنْ قُرَيْظَةَ أَدَّى مِائَةَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ ، وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلا مِنَ النَّضِيرِ قُتِلَ ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلا مِنْ قُرَيْظَةَ ، فَقَالُوا : ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلْهُ ، فَقَالُوا : بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَوْهُ ، فنزلت : وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ سورة المائدة آية 42 النَّفْسَ بِالنَّفْسِ أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ سورة المائدة آية 50 " .
محمد محی الدین

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (مدینہ منورہ میں) بنو قریظہ اور بنو نضیر دو قبیلے تھے۔ بنو نضیر، بنو قریظہ سے زیادہ معزز سمجھے جاتے تھے۔ جب بنو نضیر کا کوئی شخص بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کر دیتا، تو وہ کھجور کے ایک سو وسق دیت کے طور پر ادا کرتے تھے۔ جب بنو قریظہ کا کوئی شخص بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کر دیتا، تو دیت وصول نہ کی جاتی بلکہ قصاص لیا جاتا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو بنو نضیر کے ایک شخص نے بنو قریظہ کے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ بنو قریظہ نے کہا: اسے ہمارے حوالے کر دو، تاکہ ہم اسے بھی (قصاص کے طور پر) قتل کر دیں۔ تو انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اور تمہارے درمیان ہیں، فیصلہ کریں گے۔ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”جب تم نے فیصلہ کرنا ہو تو انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کرو، جان کا بدلہ جان ہے۔“ کیا وہ لوگ زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں؟

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3447
تخریج حدیث «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 834، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5057، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 366، 367، 368، 21، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8187، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4736 ، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3447، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3502، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 4775، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28549»