حدیث نمبر: 3446
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " كَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ امْرَأَتَانِ فَغَارَتْ إِحْدَاهُمَا مِنَ الأُخْرَى فَرَمَتْهَا بِفِهْرٍ ، أَوْ عَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأُسْقِطَتْ ، فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ ، فَقَالَ وَلِيُّهَا : أَنَدِي مَنْ لا صَاحَ ، وَلا اسْتَهَلَّ ، وَلا شَرِبَ ، وَلا أَكَلَ ؟ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الأَعْرَابِ ، وَجَعَلَهَا عَلَى أَوْلِيَاءِ الْمَرْأَةِ " .
محمد محی الدین

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مار کر یا شاید خیمہ کی لکڑی مار کر اس کے پیٹ میں موجود بچے کو ضائع کر دیا، یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، تو آپ نے اس میں تاوان کی ادائیگی کا حکم دیا، تو اس (قاتل عورت) کے سرپرست نے کہا: ”کیا ہم اس کا تاوان ادا کریں گے؟ جو چیخ مار کر رویا نہیں (یعنی پیدا نہیں ہوا)، جس نے کچھ پیا نہیں، کچھ کھایا نہیں؟“ یا اس کی مانند الفاظ نقل کیے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم دیہاتیوں کی طرح مقفع مسجع گفتگو کر رہے ہو؟“ راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے رشتہ داروں پر تاوان کی ادائیگی کو لازم قرار دیا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3446
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6905، 6906، 6908 م، 7317، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1682، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4825 ، 4826 ، 4827 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4568، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1411، 1366 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 668، 2425، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2633، 2640،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3444، 3445، 3446، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18423، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 27836»