سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، " أَنَّ امْرَأَتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَتَلَتْهَا ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَفِيمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةً ، فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ : أَنَدِي مَنْ لا أَكَلَ ، وَلا شَرِبَ ، وَلا صَاحَ ، وَاسْتَهَلَّ ؟ فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الأَعْرَابِ، وَقَضَى فِيمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةً " .سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: دو عورتیں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمہ کی لکڑی مار کر قتل کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقتول عورت کی دیت کی ادائیگی، قاتل عورت کے خاندان پر عائد کی اور اس مقتول عورت کے پیٹ میں موجود بچے کے تاوان کی ادائیگی کا حکم دیا، تو ایک دیہاتی بولا: ”کیا میں اس کا تاوان ادا کروں؟ جس نے کچھ کھایا پیا نہیں، وہ چیخ مار کر رویا نہیں، اس طرح کا خون رائیگاں جاتا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دیہاتیوں کی طرح مقفع مسجع گفتگو کر رہے ہو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے پیٹ میں موجود بچے کے تاوان کی ادائیگی کو لازم قرار دیا۔