سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالا : نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، نَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : " ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ وَهِيَ حُبْلَى فَقَتَلَتْهَا ، قَالَ : وَإِحْدَاهُمَا لِحْيَانِيَّةٌ ، قَالَ : فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ ، وَغُرَّةً لَمَا فِي بَطْنِهَا ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ : أَنَغْرَمُ دِيَةَ مَنْ لا أَكَلَ ، وَلا شَرِبَ ، وَلا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الأَعْرَابِ ، وَجَعَلَ عَلَيْهِمَا الدِّيَةَ " .سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمہ کی لکڑی کے ذریعے ضرب لگائی، وہ دوسری عورت حاملہ تھی، راوی بیان کرتے ہیں: ان دونوں میں سے ایک عورت کا تعلق بنو لحیان سے تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول عورت کی دیت کی ادائیگی قاتل عورت کے خاندان پر عائد کی اور اس مقتول کے پیٹ میں موجود بچے کے تاوان کی ادائیگی کا حکم دیا، تو قاتل عورت کے خاندان میں سے ایک شخص بولا: ”کیا ہم اس بچے کا تاوان ادا کریں؟ جس نے کچھ کھایا نہیں، کچھ پیا نہیں، جو رویا نہیں (یعنی پیدا نہیں ہوا)، اس طرح کا خون رائیگاں جاتا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دیہاتیوں کی طرح مقفع و مسجع گفتگو کر رہے ہو؟“ راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دیت کی ادائیگی لازم قرار دی۔