سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الصَّامِتِ ابْنَ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " جَاءَ الأَسْلَمِيُّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، كُلَّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ ، فَأَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ ، فَقَالَ كَلِمَةً : أَنِكْتَهَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : حَتَّى غَابَ ذَلِكَ مِنْهَا كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ ، وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : هَلْ تَدْرِي مَا الزِّنَى ؟ ، قَالَ : نَعَمْ أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِهِ حَلالا ، قَالَ : فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ ؟ ، قَالَ : أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ ، يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : انْظُرْ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكِلابِ ، فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ ، فَقَالَ : أَيْنَ فُلانٌ وَفُلانٌ ، قَالا : نَحْنُ ذَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : انْزِلا فَكُلا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ، قَالا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ، مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا ؟ ، قَالَ : مَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكْلِ الْمَيْتَةِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ الآنَ لَفِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَنْغَمِسُ فِيهَا " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے چار مرتبہ اپنے بارے میں یہ گواہی دی کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کیا ہے، ہر مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، جب وہ پانچویں مرتبہ آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اس کے ساتھ صحبت کی ہے؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”(اس طرح سے کہ) تمہاری شرمگاہ اس کی شرمگاہ میں یوں داخل ہو گئی، جیسے سلائی سرمہ دانی کے اندر چلی جاتی ہے، یا ڈول کنویں کے اندر چلا جاتا ہے؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم جانتے ہو زنا کسے کہتے ہیں؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں، میں نے اس عورت کے ساتھ حرام طریقے سے وہ عمل کیا ہے، جو کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ حلال طور پر کرتا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم اس بات کے ذریعے کیا چاہتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پاک کر دیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں دو آدمیوں کو گفتگو کرتے ہوئے سنا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے یہ کہا: ”بھلا اس شخص کو دیکھو، اللہ نے اس کا پردہ رکھا، لیکن اس نے خود اسے نہیں رہنے دیا اور اسے کتے کی طرح سنگسار کر دیا گیا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، کچھ دیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مردار گدھے کے پاس سے ہوا، جس کی ایک ٹانگ اوپر کی طرف اٹھی ہوئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”فلاں اور فلاں کہاں ہیں؟“ ان دونوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہم یہاں ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں یہاں اترو، تم دونوں نے اس مردار گدھے میں سے اپنے حصے کا گوشت لینا ہے۔“ ان دونوں نے عرض کی: ”اے اللہ کی نبی! اللہ آپ کی مغفرت کرے، اس کا گوشت کون کھائے گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ابھی تھوڑی دیر پہلے اپنے بھائی کی عزت پر جو حملہ کیا ہے، وہ مردار کھانے سے زیادہ شدید ہے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ شخص اس وقت جنت کی نہروں میں ڈبکیاں لگا رہا ہے۔“