سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
كَتَبَ إِلَيْنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ ، نَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ تُوجَدُ فِي الأَرْضِ الْمَسْكُونَةِ وَالسَّبِيلِ الْمِيتَاءِ ، فَقَالَ : عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلا فَهِيَ لَكَ ، وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ تُوجَدُ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ ، فَقَالَ : فِيهَا وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ ، فَقَالَ : إِنَّهَا هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ ، فَقَالَ : دَعْهَا فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا ، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ مِنَ الشَّجَرِ ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ حَرِيسَةِ الْجَبَلِ ، قَالَ : يُضْرَبُ ضَرَبَاتٍ وَيُضَعَّفُ عَلَيْهِ الْغُرْمُ ، وَقَالَ : إِذَا كَانَ مِنَ الْمِرَاحِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ وَهُوَ الدِّينَارُ فَفِيهِ الْقَطْعُ ، فَإِذَا كَانَ دُونَ ذَلِكَ ضُرِبَ ضَرَبَاتٍ وَأُضْعِفَ عَلَيْهِ الْغُرْمُ ، وَسُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ فِي أَكْمَامِهَا ، قَالَ : يُضْرَبُ ضَرَبَاتٍ وَيُضَعَّفُ عَلَيْهِ الْغُرْمُ ، قَالَ : فَإِذَا كَانَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ وَهُوَ الدِّينَارُ فَفِيهِ الْقَطْعُ ، فَإِذَا كَانَ دُونَ ذَلِكَ ضُرِبَ ضَرَبَاتٍ وَأُضْعِفَ عَلَيْهِ الْغُرْمُ " .عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو کسی رہائشی جگہ یا عام گزرگاہ سے ملتی ہے، تو آپ نے فرمایا: ”تم ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو، اگر اس کا مالک آ جائے، تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ تمہاری ہو گی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو دشمن کی سرزمین سے ملتی ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اس میں اور رکاز میں سے پانچویں حصے کی (بیت المال) کو ادائیگی لازم ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ بکری کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم اسے پکڑو، کیونکہ وہ یا تو تمہیں ملے گی، یا تمہارے کسی بھائی کو مل جائے گی، یا پھر بھیڑیے کو ملے گی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، اس کے پاؤں اور اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہیں، وہ خود ہی پانی تک پہنچ جائے گا اور درخت (کے پتے) کھا لے گا۔“ (راوی کہتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہاڑ سے چوری کرنے والے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اس کی اچھی طرح پٹائی کی جائے اور اس سے دگنا تاوان لیا جائے۔“ اگر مویشیوں کی حفاظت کی جگہ سے جانور چرایا گیا ہے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت جتنی یعنی ایک دینار ہو، تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، آپ سے شگوفے میں سے پھل چوری کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اسی چور کی پٹائی کی جائے گی اور اس سے دگنا تاوان وصول کیا جائے گا۔“ آپ نے فرمایا: ”اگر کھجوریں خشک کرنے کی جگہ سے چوری کی جائیں، اور چوری شدہ سامان کی قیمت ڈھال جتنی ہو، تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور اگر اس سے کم ہو، تو (چور کی) پٹائی کی جائے گی اور اس سے دگنا تاوان وصول کیا جائے گا۔“