سنن الدارقطني
كتاب الحدود والديات وغيره— حدود کا بیان
كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ باب: حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، نَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَجُلٌ أَسْوَدُ يَأْتِي أَبَا بَكْرِ فَيُدْنِيهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ ، حَتَّى بَعَثَ سَاعِيًا ، أَوْ قَالَ سَرِيَّةً ، فَقَالَ : أَرْسَلَنِي مَعَهُ ، قَالَ : بَلْ تَمْكُثُ عِنْدَنَا ، فَأَبَى ، فَأَرْسَلَهُ مَعَهُ وَاسْتَوْصَاهُ بِهِ خَيْرًا ، فَلَمْ يُغَبِّرْ عَنْهُ إِلا قَلِيلا ، حَتَّى جَاءَ قَدْ قُطِعَتْ يَدُهُ ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ فَاضَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ ، قَالَ : مَا زِدْتُ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يُولِينِي شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ فَخُنْتُهُ فَرِيضَةً وَاحِدَةً فَقَطَعَ يَدَيَّ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : تَجِدُونَ الَّذِي قَطَعَ هَذَا يَخُونُ أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ فَرِيضَةً ، وَاللَّهِ لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لأُقِيدَنَّكَ بِهِ ، قَالَ : ثُمَّ أَدْنَاهُ وَلَمْ يُحَوِّلْ مَنْزِلَتَهُ الَّتِي كَانَتْ لَهُ مِنْهُ ، قَالَ : فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُومُ بِاللَّيْلِ فَيَقْرَأُ ، فَإِذَا سَمِعَ أَبُوَ بَكْرٍ صَوْتَهُ ، قَالَ : بِاللَّهِ لَرَجُلُ قَطْعٍ هَذَا ! ، قَالَ فَلَمْ يُغَبِّرْ إِلا قَلِيلا حَتَّى فَقَدَ آلُ أَبِي بَكْرٍ حُلِيًّا لَهُمْ وَمَتَاعًا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : طَرَقَ الْحَيِّ اللَّيْلَةَ ، فَقَامَ الأَقْطَعُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَهُ الصَّحِيحَةَ وَالأُخْرَى الَّتِي قُطِعَتْ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ أَظْهِرْ عَلَيَّ مَنْ سَرَقَهُمْ " ، أَوْ نَحْوَ هَذَا ، وَقَالَ مَعْمَرٌ : رُبَّمَا قَالَ : " اللَّهُمَّ أَظْهِرْ عَلَيَّ مَنْ سَرَقَ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ الصَّالِحِينَ " ، قَالَ : فَمَا انْتَصَفَ النَّهَارُ حَتَّى عَثَرُوا عَلَى الْمَتَاعِ عِنْدَهُ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : " وَيْلَكَ إِنَّكَ لَقَلِيلُ الْعِلْمِ بِاللَّهِ " ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَتْ رِجْلُهُ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک سیاہ فام شخص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے ساتھ رہنے لگا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اسے قرآن سکھانے لگے، ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (زکوٰۃ وغیرہ کی) وصولی کرنے والے شخص کو بھجوانے لگے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) کسی مہم کو روانہ کرنے لگے، تو وہ شخص بولا: ”مجھے بھی اس کے ساتھ بھیج دیں۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم ہمارے ساتھ رہو۔“ لیکن اس نے یہ بات نہیں مانی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے بھی اس (وصولی) کرنے والے کے ساتھ بھیج دیا، اور اسے (اس سیاہ فام) کا خیال رکھنے کی تاکید کی، کچھ عرصے بعد وہ (سیاہ فام) شخص آیا، تو اس کا ہاتھ کٹا ہوا تھا، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا، تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”اس (سرکاری اہلکار) نے جو کام میرے ذمے لگایا تھا، میں نے اس میں سے ایک فریضہ (یعنی جانور یا کوئی چیز) کی خیانت کی، تو اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے اس کا ہاتھ کاٹا ہے، اس نے خود بیس سے زیادہ فریضوں میں خیانت کی ہوئی ہے، اللہ کی قسم! اگر تم ٹھیک کہہ رہے ہو، تو میں اس وجہ سے اسے قید کر دوں گا۔“ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ساتھ رکھا اور اس کے ساتھ پہلے سا سلوک کرتے رہے، وہ شخص رات کے وقت کھڑا ہو کر (نوافل کے دوران) قرأت کرنے لگا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب اس کی آواز سنی، تو دعا کی: ”اے اللہ! جس نے اس کا ہاتھ کاٹا ہے، اسے سزا دے۔“ تھوڑے ہی عرصے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر والوں میں سے کسی کا ہار یا شاید اور کوئی چیز چوری ہو گئی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”گزشتہ رات ہمارے ہاں چوری ہو گئی۔“ وہ ہاتھ کٹا ہوا (سیاہ فام) کھڑا ہوا، اس نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اس نے اپنا صحیح ہاتھ اور کٹا ہوا ہاتھ دونوں بلند کیے اور دعا کی: ”اے اللہ! جس نے یہ چوری کی ہے، اسے پکڑوا دے (یا اس کی مانند لفظ استعمال کیے)۔“ معمر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اے اللہ! اس شخص کو پکڑوا دے، جس نے اس نیک گھرانے کے ہاں چوری کی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اگلا دن ابھی آدھا بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ سامان اس شخص کے پاس سے مل گیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو، تمہیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بہت تھوڑا علم ہے۔“ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت اس شخص کا پاؤں کاٹ دیا گیا۔