حدیث نمبر: 3401
ثنا ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ رَجُلا أَقْطَعَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ ، نزل عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : " مَا لَيْلُكَ بِلَيْلِ سَارِقٍ ، مَنْ قَطَعَكَ ؟ ، قَالَ : يَعْلَى بْنُ أُمَيَّةَ ظُلْمًا ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : لأَكْتُبَنَّ إِلَيْهِ ، وَتَوَعَّدَهُ ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ فَقَدُوا حُلِيًّا لأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ أَظْهِرْ عَلَيَّ صَاحِبَهُ ، قَالَ : فَوُجِدَ عِنْدَ صَائِغٍ ، فَأُلْجِئَ حَتَّى أُلْجِئَ إِلَى الأَقْطَعِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَاللَّهِ لَغَرَّتُهُ بِاللَّهِ كَانَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِمَّا صَنَعَ ، اقْطَعُوا رِجْلَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : بَلْ نَقْطَعُ يَدَهُ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : دُونَكَ " .
محمد محی الدین

نافع بیان کرتے ہیں: ایک شخص جس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں (چوری کی سزا میں) کٹا ہوا تھا، وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مہمان بنا، وہ رات کے وقت نوافل ادا کیا کرتا تھا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”تم کسی چور کی طرح رات نہیں گزارتے (تم تو نیک آدمی ہو)۔“ تمہارا ہاتھ کس نے کٹوا دیا؟ اس نے جواب دیا: ”یعلی بن منیہ نے ظلم کے طور پر اس کو کاٹا ہے۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”میں اسے اس بارے میں خط لکھوں گا۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے وعدہ کر لیا، اسی دوران (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ) سیدہ اسماء بنت عمیس کا ایک ہار گم ہو گیا، تو اس شخص نے یہ کہنا شروع کر دیا: ”اے اللہ! اس چور کو پکڑوا دے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ ہار ایک سنار کے پاس سے مل گیا، جب اس کی تحقیق کی، تو پتا چلا کہ اسی ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے شخص نے اسے فروخت کیا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میرے نزدیک اس کی اس حرکت سے زیادہ شدید (ناپسندیدہ) بات یہ ہے کہ وہ اللہ سے یہ دعائیں کر رہا تھا (کہ چور پکڑا جائے)۔“ ”تم لوگ اس کا پاؤں کاٹ دو (تاکہ وہ ہاتھ کے ساتھ کسی کام کے قابل نہ رہے)۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم اس کا ہاتھ کاٹیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔“ تو سیدنا ابوبکر نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحدود والديات وغيره / حدیث: 3401
تخریج حدیث «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1480 ، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16123، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3401، 3402، 3403، 3404، 3494، 3510، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28851»